ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آئندہ پارلیمانی الیکشن :کیا اُترکنڑا میں دیش پانڈے اوراننت کمار ہیگڈے ہونگے آمنے سامنے ؟!

آئندہ پارلیمانی الیکشن :کیا اُترکنڑا میں دیش پانڈے اوراننت کمار ہیگڈے ہونگے آمنے سامنے ؟!

Mon, 03 Dec 2018 20:51:54    S.O. News Service

بھٹکل 3؍دسمبر(ایس او نیوز) پارلیمانی انتخابات کا موسم جیسے جیسے قریب آتا جارہا ہے ، سیاسی پنڈتوں کی پیشین گوئیاں اور سیاسی گلیاروں میں سرگوشیاں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ اگر ضلع شمالی کینرا کی پارلیمانی سیٹ کی بات کی جائے تو یہاں ابتدائی طور پربی جے پی کے اننت کمار ہیگڈے اور کانگریس کے آر وی دیشپانڈے کے تعلق سے ہوا کا رخ طے ہوتا نظر آرہا ہے۔

اننت کمار کو ٹکٹ یقینی!: سیاسی جانکاروں کی ابتدائی رپورٹ یہی بتارہی ہے کہ بی جے پی ہائی کمان کی سطح پر اس مرتبہ بھی اننت کمار ہیگڈے کو ہی ٹکٹ دیا جانا طے ہے ۔ حالانکہ پچھلے کچھ مہینوں سے خود اننت کمار نے یہ خبر اڑا رکھی ہے کہ اس مرتبہ وہ پارلیمانی انتخاب میں اترنے کے سلسلے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اس لئے پارٹی کسی اور امیدوار کو تلاش کرلے۔ مگر سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بھی اننت کمار کی ایک چال ہے کہ پارٹی ہائی کمان کی توجہ ان پر مبذول رہے اور پہلے ہی سے ان کی سیٹ پکّی ہوجائے ۔پھر ان کے لئے یہ بھرم بنائے رکھنا آسان ہوجائے گا کہ پارٹی کے اصرار پر ہی انہوں نے انتخاب لڑا ہے ورنہ انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اور اب ایسا لگتا ہے کہ اننت کمار کی چال کامیاب ہورہی ہے اور پارٹی ا ن کے لئے سیٹ محفوظ ہونے کاسگنل دینا چاہتی ہے۔ اب اگر اپنے کچھ نجی اسباب کی وجہ سے اننت کمار انکار کردیں تو یہ الگ بات ہوگی ، مگر اس کے امکانا ت بہت ہی کم نظر آرہے ہیں۔

کانگریس سے دیشپانڈے ہونگے امیدوار؟: دوسری طرف یہ خبر آرہی ہے کہ ضلع شمالی کینرا سے اننت کمار کے مقابلے میں اترنے کے لئے چونکہ کانگریس کے پاس کوئی بڑاتجربہ کار اور قدآور لیڈر موجود نہیں ہے اس لئے موجودہ ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے کو یہاں سے ٹکٹ دینے پر غورکیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں اننت کمار کے مقابلے میں کانگریس سے دیشپانڈے کے فرزند پرشانت دیشپانڈے کو ٹکٹ دیا گیا تھا۔مگر مودی لہراور اننت کمار کی کٹر ہندوتواوادی امیج کے سامنے پرشانت ٹک نہیں سکے اور انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔اور اب نہیں لگتا کہ کانگریس پارٹی دوبارہ پرشانت کو ٹکٹ دینے کے بارے میں غور کرے گی۔

کیا یہ دیشپانڈے کو کنارے لگانے کی چا ل ہے؟: سیاسی حلقے میں کچھ لوگ اس معاملے کو دوسرے انداز سے بھی دیکھ رہے ہیں اور دیشپانڈے کو پارلیمانی انتخاب میں امیدوار بنانے کے پیچھے کچھ کانگریسی لیڈران کی چال محسوس کررہے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فی الحال ریاستی سیاست میں دیشپانڈے سب سے تجربہ کار اور قد آور کانگریسی لیڈر ہیں۔ اگر کرناٹکا میں کانگریسی وزیر اعلیٰ چننے کا موقع آیا تو پھر سب سے پہلا نام دیشپانڈے کا ہی سامنے آئے گا۔ جبکہ ریاستی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر ایک طرف ڈی کے شیو کمار جیسے بااثر کانگریسی لیڈر کی نظر ہے تو دوسری طرف سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے دل میں بھی پھر ایک مرتبہ اس کرسی پر براجمان ہونے کی خواہش انگڑائیاں لیتی ہوئی صاف محسوس ہورہی ہے۔دوسری طرف یلاپور کے رکن اسمبلی شیو رام ہیبار کے لئے بھی راستہ صاف ہوجائے گا جو ضلع انچارج وزیر بننے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

کھرگے کے ساتھ یہ کھیل ہوچکا ہے: ریاستی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر نظریں جمائے ہوئے لیڈران کی حکمت عملی یہ سمجھی جارہی ہے کہ آر وی دیشپانڈے کو اگر دہلی بھیج دیا جاتا ہے تو یہاں پر ایک مضبوط دعویدار کم ہوجائے گااور دوسرے خواہشمندوں کے لئے راستہ صاف ہوجائے گا۔ اس سے پہلے یہی کھیل ملیکا ارجن کھرگے کے ساتھ بھی کھیلا جاچکا ہے۔کیونکہ ریاستی سیاست میں سینئر شپ کے لحاظ سے کھرگے وزارت اعلیٰ کی دعویداری کے حق دار ہوچکے تھے۔ مگربعض کانگریسی لیڈروں نے اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے منظم طریقے پر اندرونی چالیں چلنے کے بعد انہیں دہلی کا راستہ دکھادیا تھا۔ اور اب سمجھا جارہا ہے کہ یہی چال دیشپانڈے کے ساتھ بھی چلنے کی تیاری ہورہی ہے۔

دیشپانڈے کو دلچسپی نہیں ہے !: بتایا جارہا ہے کہ ماضی میں ایک مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں امیدوار بن کر شکست کا منھ دیکھنے والے خود آر وی دیشپانڈے کو دوبارہ پارلیمانی سیاست کے میدان میں اترنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ریاستی سیاست میں رہ کر مزید ترقی اور بلندی دیکھنے کی خواہش رکھنے والے دیشپانڈے کے لئے دہلی کی طرف رخ کرنے ہچکچاہٹ کا سامنا ہے۔ لیکن خود کانگریسی لیڈران کے اندرگروہ بندی اور انہیں دہلی بھیجنے کی چالیں دیکھ کر دیشپانڈے کے دل میں کسک پیدا ہونا ایک فطری بات ہے۔اس لئے ہائی کمان اگر اس طرح کا فیصلہ کرتا ہے تو دیشپانڈے اس کے لئے راضی ہونگے یا نہیں یہ کہنا ابھی ذرا مشکل نظر آرہا ہے۔

سیاسی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ریاستی کابینہ میں جلد ہی جو توسیع ہونے والی ہے اس کے بعد یہاں کے حالات نئی کروٹ لے سکتے ہیں اور ضلع میں سیاسی صورتحال مزید کچھ واضح ہوسکتی ہے۔


Share: